A modest demand by a flood affected farmer – by Wusatuallah Khan

August 16, 2010 1 comment

صرف چار چیزیں

وسعت اللہ خان | 2010-08-13 ، 4:05

اب تک حکومتِ پاکستان نے جو تخمیہ لگایا ہے اسکے حساب سے ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور پچیس لاکھ ایکڑ زرعی زمین پانی تلے آئی ہے۔ پانچ لاکھ ٹن گندم کے ذخائر برباد ہوئے ہیں اور گنے کی بیشتر فصل ڈوب گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کہتی ہے کہ بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔

جب میں یہ اعداد و شمار کروڑ لعل عیسن کے ایک سیلاب زدہ ایف اے پاس کسان یوسف علی کو بتا رہا تھا تو اس نے کہا ہمیں اربوں ڈالر نہیں چاہیئیں۔ ہمیں تو بس حکومت ہر شخص کے متاثرہ رقبے کے حساب سے گندم کی اگلی فصل کے لیے مفت بیج ، کھاد ، ڈیزل اور ٹیوب ویل کا انجن دے دے۔ جیسے جیسے فصل کھڑی ہوتی جائے گی ہم بھی کھڑے ہوتے چلے جائیں گے۔

ان چار چیزوں کی بنیاد پر حاصل ہونے والی پیداوار کی آمدنی سے ہم سال بھر میں دو کچے کمرے تعمیر کرلیں گے۔ایک دو بھینسیں خرید لیں گے اور اگلے برس کی کاشت بھی اپنے بل بوتے پر کرلیں گے۔

جس سیلاب نے برباد کیا ہے وہی سیلاب نئی مٹی کی شکل میں پیدا ہونے والی زرخیزی کا مرہم ہمارے زخموں پر رکھ دے گا ۔

جو لوگ اربوں ڈالر کی بات کر رہے ہیں وہ ہمارے لیے نہیں ہیں۔ وہ تو اسلام آباد کے ای اور ایف سیکٹرز ، پشاور کے حیات آباد ، کراچی کے ڈیفنس اور کلفٹن ، لاہور کے گلبرگ، ماڈل ٹاؤن اور ڈیفنس کے لیے ہیں۔

ہمیں بس ایک فصل کا بیج، کھاد، ڈیزل اور ٹیوب ویل انجن دے دو ۔باقی خود رکھ لو۔یوسف علی نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔

http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2010/08/post_659.html

Advertisements
Categories: Floods

The flood in Muzaffargarh

August 15, 2010 2 comments

پانی ہی پانی، دفن کہاں کریں

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرگڑھ

جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کو جن ان گنت مسائل کا سامنا ہے وہاں مظفر آباد کے نواحی علاقے میں بےگھر ہونے والے متاثرین کے لیے ایک مسئلہ مرنے والوں کی تدفین کا بھی ہے۔

سیلاب کی وجہ سے جبوبی پنجاب کے مختلف حصے زیر آب ہیں اور کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ مظفر گڑھ بھی جنوبی پنجاب کا وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا ساٹھ فیصد علاقہ سیلابی پانی کی لپیٹ میں ہے۔

مظفر گڑھ کے نواحی علاقے ’بدھ‘ کے Read more…

Categories: Floods

Sailab Diary – by Wusatullah Khan (BBC Urdu)

August 15, 2010 1 comment

شہر میں صرف افواہوں کا سیلاب تھا

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرگڑھ
بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کریں گے۔ پیش ہے اس سلسلے کی پہلی کڑی

اتوار آٹھ اگست

ہزاروں لوگ ٹرکوں ، ٹریکٹر ٹرالیوں ، ویگنوں، بسوں ، سائیکلوں ، بیل گاڑیوں اور کاروں پر آرہے تھے

کل صبح میں کراچی سے ملتان پہنچا ۔

ملتان پہنچ کر معلوم ہوا کہ جتنی بھی فور وھیل ڈرائیو گاڑیاں ہیں سیلاب کے سبب امدادی اداروں اور این جی اوز نے کرائے پر لے لی ہیں جبکہ کاریں اور ہلکی گاڑیاں متاثرہ علاقوں میں ایک خاص حد سے آگے نہیں چلائی جاسکتیں۔جو دو تین فور Read more…

Categories: Floods

The Saraiki subjects of the Takht-e-Lahore: Is flood affected Rajanpur a part of Pakistan?

July 28, 2010 3 comments

The Saraiki people remain disempowered and disadvantaged in the Punjabi dominated military state of Pakistan

SWADO editor’s note: Here is a compilation of newspaper reports from the last two days (27-28 July 2010) which points towards the intensity of suffering facing the flood affected people of the Saraiki area including but not limited to Dera Ghazi Khan (Rajanpur), Bhakkar and Dera Ismail Khan. Rajanpur District seems to be the most affected area where people have not only lost their loved ones but also their homes, crops and are deprived of very basic necessities such as flour (atta). The Khadim-e-Aala of Lahore Chief Minister Shahbaz Sharif is indeed more interested in the corridors of politics in the GHQ (Rawalpindi) and the Takht-e-Lahore instead of serving the very people who he claims to represent and serve. (AN)


(Dajal is one of rural area of tehsil Jampur of District Rajanpur. 2009)

Rajanpur’s flood victims term relief activities eyewash; ask CM to visit calamity-hit areas

DERA GHAZI KHAN: The dilapidated link roads in the flood-hit Rajanpur district have made the life of villagers miserable, especially in the areas affected by hill torrents.

The public transport has been suspended on most of routes even after five days of the flash flood in Kaha Sultan hill torrent which broke the 20-year record. The number of people getting treatment from medical camps is very Read more…

Inter-faith harmony in a graveyard in D.I. Khan

July 8, 2010 1 comment

جنوبی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع شہر ڈیرہ اسماعیل خان جو شدت پسندی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور جہاں فرقہ وارانہ تشدد کے بے شمار واقعات بھی پیش آئے ہیں، وہاں اسی شہر میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک انوکھی مثال بھی پائی جاتی ہے۔ شہر کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ عیسائیوں اور ہندوؤں کی تدفین بھی کی جاتی ہے ۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/06/100624_pak_common_graveyard.shtml


According to a report by BBC, Muslims, Hindus and Christian are buried together in one grave yard in D.I.Khan, Pakistan. This is indeed a Read more…

Categories: Saraiki Culture Tags:

Peelu

July 8, 2010 Leave a comment

Peelu also known as Vann (Punjabi) or Jar (Sindhi) (botanical name:Salvadora oleoides) is a small bushy evergreen tree found in India and Pakistan.

Its small greenish white flowers are produced in March-April. The fruit is yellow and ripens in the months of May and June. It forms one of the main grazing sources for livestock owned by local farmers. It is often dried and preserved in large quantities. The seeds are spread by birds. The seedlings come up under the parent plant or under other bushes and are somewhat frost-tender. (see Wikipedia)

Peelu is an important feature of the geography and culture of the Saraiki waseb including the Saraiki literature.

Here is a report on Peelu by BBC Urdu. I cannot embed the video on this site but you can go to the BBC link to watch the video report.

پاکستان میں روہی تھل اور دامان کے علاقوں میں پیدا ہونے والا خود رو درخت جال جس کے پھل کو پیلو کہتے ہیں ویرانے کی علامت کے طور پر ہی جانا جاتا ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین درختوں میں سے ایک ہے۔ اس درخت کی چھاؤں اور اس کے پھل کو بابا فرید نے اپنی کافی میں بڑی رومانوی انداز میں پیش کیا ہے۔ چٹیل میدانوں اور صحراؤں میں پیدا ہونے والا یہ پودا اب بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

Khosa’s ‘removal’ puts PML-N’s political future at stake – by Afnan Khan

July 6, 2010 Leave a comment

* Nationalists, lawmakers from S Punjab contacting Khosa family for a separate province
* PML-N leaders believe they will be isolated from national politics if South Punjab becomes province
* May launch reconciliatory move with Khosas

LAHORE: The Pakistan Muslim League-Nawaz’s decision to remove Dost Muhammad Khosa from a key ministry over allegations of misconduct has jeopardised the party’s own future, as a number of nationalist parties and parliamentarians from southern Punjab have started contacting the Khosa family for the formation of a separate province.

On the other hand, mainstream parties such as the PML-Quaid were already pushing for the formation of a separate province in southern Read more…

Categories: Sariki Region