Home > Saraiki Sooba > Demand for new provinces in Pakistan – by Nazir Naji

Demand for new provinces in Pakistan – by Nazir Naji

نئے صوبوں کے مطالبات …سویرے سویرے …نذیرناجی

نئے صوبوں کے قیام کا سوال روزبروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صوبائی خودمختاری ملنے سے جہاں وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ حل ہونے کے راستے نکلیں گے‘ وہاں نئے صوبوں کے مطالبات بھی سامنے آئیں گے۔ظاہر ہے اس کی بنیادی وجہ وہی ہو گی‘ جو سیاست میں ہوا کرتی ہے۔ یعنی اقتدار کا حصول۔ خیبر پختون خواہ ایک چھوٹا صوبہ ہے اور سائز میں اس کا نمبر آخر میں آتا ہے۔مانسہرہ‘ ایبٹ آباد یا ہزارہ کے دوسرے علاقوں سے پشاور زیادہ دور نہیں۔ لیکن ہزارہ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان کے علاقے کو صوبے کا درجہ مل جائے‘ تو اپنے وسائل اپنی تحویل میں لے کر‘ وہ خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ اس علاقے کے سیاستدانوں میں اس خواہش کا پیدا ہونا فطری امر ہے کہ وہ بھی اپنے لئے ایک صوبائی اسمبلی حاصل کریں تاکہ انہیں بھی وزارتیں حاصل کرنے اور وزارت اعلیٰ کا منصب پانے کے مواقع حاصل ہوں۔ خیبرپختون خواہ میں رہ کر نہ وہ ہربار وزارت اعلیٰ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اتنی تعداد میں وزارتیں‘ جو کہ انہیں اپنے صوبے میں ساری کی ساری دستیاب ہوں گی۔

یہی صورتحال دیگر صوبوں میں ہے۔ پنجاب میں سرائیکی بولنے والوں کی آبادی ایک مدت سے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر رہی ہے اور وہیں سے بہاولپور کو علیحدہ صوبہ بنانے کی آواز بھی اٹھنے لگی ہے۔ ہزارہ کے لوگ ہوں یا سرائیکی بولنے والے۔ یہ سب تو نیا صوبہ مانگتے ہیں۔ لیکن بہاولپور والوں کا مطالبہ مختلف ہے۔ وہ نیا صوبہ نہیں مانگ رہے۔ اپنے علاقے کا سابقہ انتظامی یونٹ بحال کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی صورتحال میں آپ اسے صوبے کی بحالی کہہ سکتے ہیں۔ بہاولپور والوں کا مقدمہ بہت مضبوط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن صوبائی اکائیوں کو مدغم کر کے مغربی پاکستان کا صوبہ مسلط کیا گیا تھا‘ ان میں بہاولپور بھی شامل تھا۔ لیکن یحییٰ خان نے جب ون یونٹ توڑا‘ تو باقی صوبوں کی طرح بہاولپور کو بحال نہیں کیا۔ اسے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ ون یونٹ میں مدغم ہوتے وقت وہ پنجاب کا حصہ نہیں تھا۔ آئینی اور قانونی طور پر ون یونٹ توڑنے کے نتیجے میں بہاولپور کو ازخود ایک علیحدہ انتظامی یونٹ کا درجہ ملنا چاہیے تھا۔ سرائیکی صوبہ مانگنے والے‘ بہاولپور کی علیحدگی پر خوش نہیں ہیں۔ مگر اس حقیقت کو جھٹلایانہیں جا سکتا کہ سرائیکی بولنے والوں کے علاقے میں جدید نظام حکومت کے تحت کبھی کوئی علیحدہ انتظامی یونٹ موجود نہیں رہا۔

ماضی میں ملتان کی ریاست ایک علیحدہ جغرافیائی اور انتظامی اکائی ضرور رہی ہے لیکن یہ صدیوں پہلے کی بات ہے۔ جبکہ بہاولپور قیام پاکستان کے بعد بھی الگ ریاست تھا اور نوابی ختم ہونے کے بعد بھی‘ وہ ایک علیحدہ صوبے کی طرح رہا۔ پنجاب میں سب سے زیادہ محرومی کا شکار اسی علاقے کے لوگ ہیں۔ اگر سرائیکی بولنے والوں کومحرومی کا شکار سمجھا جائے‘ تو بہاولپور کے عوام ان سے بھی زیادہ پسماندہ اور نظرانداز کئے گئے لوگ ہیں۔

گزشتہ روز سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے بہاولپور کے حوالے سے سینیٹر محمد علی درانی نے اپنے کیس کے حق میں موثر اعداد و شمار پیش کئے۔ ان کے مطابق بہاولپور پنجاب کے ایک چوتھائی علاقے اور 13 فیصد آبادی پر مشتمل ہے‘ جہاں 51فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ پنجاب کا غریب ترین علاقہ ہے۔ شرح خواندگی 34 فیصد ہے جبکہ پنجاب میں اس کا اوسط 57 فیصد ہے۔گزشتہ 40 سال کے دوران پنجاب میں 5 نئے ڈویژن‘ 18 اضلاع اور 48 تحصیلیں بنیں۔ بہاولپور کو کچھ نہیں ملا۔ بہاولپور کا واحد آبی ذریعہ دریائے ستلج بھارت کو بیچ دیا گیا‘ جس کے عوض 35 ارب کی رقم وصول کی گئی۔ لیکن پانی کے متبادل انتظام میں بہاولپور کو کچھ نہ دیا گیا۔ سلیمانکی سے پنجند تک 450کلومیٹر کو محیط‘ ایک ریت کا دریا رہ گیا ہے‘ جو موت کا خطہ بن چکا ہے۔

بہاولپور میں بچوں میں شرح اموات اوسطاً فی ہزار 142 ہے جبکہ باقی پنجاب میں اس کا اوسط 72 فی ہزار ہے۔ زیادہ ریتلے علاقوں پر مشتمل اس کا زیرزمین پانی کڑوا ہے۔ بارش سب سے کم ہوتی ہے۔ نہریں خشک پڑی ہیں۔ 1991ء کے واٹر اکارڈ کے تحت پنجاب کو تو پانی مل گیا‘ مگر اسی سال بہاولپور کا 70 فیصد پانی چوری کر لیا گیا۔ این ایف سی ایوارڈ میں بہاولپور کا حصہ 53.4 ہے جبکہ اس علاقے کو صرف ایک ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ملا۔ یہ پسماندہ اور ناخواندہ علاقہ پنجاب میں 44 فیصد کپاس پیدا کرتا ہے۔ 22 فیصد گندم‘ 18 فیصد گنا‘20 فیصد چاول‘ 45 فیصد آم اور 35 فیصد لائیوسٹاک صوبے کو دیتا ہے۔ مگر یہاں کے نوجوان نوکریوں سے محروم ہیں۔ سی ایس ایس میں بھٹو صاحب نے 12 فیصد کوٹہ رکھا تھا‘ اب یہ 3فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔

سینیٹرمحمد علی درانی نے یاد دلایا کہ بہاولپور وہ ریاست ہے‘ جس کے نواب صادق محمد خان عباسی پنجم نے پاکستان کے قیام کے بعد تنخواہیں ادا کرنے کے لئے آج کے حساب سے حکومت پاکستان کو 50 ارب روپے دیئے تھے۔ قائد اعظم انہی کی کار BWP-72 کار میں بیٹھ کر حلف اٹھانے گئے تھے۔ 1994ء میں جب بہاولپور کو ون یونٹ میں لیا گیا تو یہ واحد صوبہ تھا جہاں نفعے کا بجٹ پیش ہوا۔سینیٹر محمد علی درانی کے پیش کردہ یہ اعداد و شمار ایسی دردناک کہانی بیان کرتے ہیں‘ جسے پڑھ کے احساس ہوتا ہے کہ ریاست بہاولپور پاکستان کا مظلوم ترین علاقہ ہے۔ یہاں کے عوام انتہائی پرامن اور صلح جو ہیں۔ بہاولپور کی زمینیں حکمران آمروں نے اپنے حواریوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کیں۔ ان زمینوں کو زرخیز بنانے کے لئے بظاہر ایک بارانی نہر تعمیر کی گئی۔

لیکن عموماً اس میں چوری کا پانی چھوڑا جاتا ہے۔ اس پانی کی وجہ سے کوڑیوں میں بیچی گئی یہ زمین کروڑوں کی ہو جاتی ہے۔ لیکن بہاولپور کے رہنے والوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ علاقہ آج بھی جاگیرداروں کے تسلط میں ہے۔ علیحدہ صوبے کے علمبردار محمد علی درانی خود بڑے زمیندارنہیں لیکن جو جنگ وہ لڑ رہے ہیں‘ اس کی کامیابی کے نتیجے میں‘ اصل فائدہ جاگیرداروں کا ہو گا۔ یوں بھی صوبائی خودمختاری اور علیحدہ صوبوں کے مطالبے جاگیردارانہ نظام کو تحفظ اور مضبوطی دینے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں حکومتی سطح پر جاگیرداروں کو وہ اثر و رسوخ حاصل نہیں رہ گیا‘ جو ملک کی کم آبادی اور چھوٹی انتظامیہ کے دور میں ہواکرتا تھا۔ ان کی نشستیں بھی اسمبلیوں میں زیادہ ہوتی تھیں۔ شہری آبادی میں اضافے سے جاگیرداروں کی نشستیں کم اور شہری تاجروں ‘ قبضہ گروپوں اور بڑے کاروباری لوگوں کی زیادہ ہو چکی ہے۔

ان کے مفادات جاگیرداروں کے مفادات سے مختلف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے جاگیردار اپنی طبقاتی طاقت برقرار رکھنے کے لئے علیحدہ صوبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سرائیکی اور بہاولپور صوبوں کامطالبہ کرنے والوں میں پیش پیش متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ وہ تاج احمد لنگاہ ہوں یا محمد علی درانی‘ اپنے مطالبوں میں کامیاب ہونے کے بعد قائم ہونے والی صوبائی اسمبلیوں میں چلے بھی گئے‘ تو صرف تقریریں کر سکیں گے۔ حکومتیں جاگیردار بنائیں گے۔ جیسے پاکستان ترقی یافتہ مسلم آبادی قائد اعظم کی قیادت اور نوجوانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا لیکن اس کے فوائد جاگیرداروں کو ملے تھے۔

اب پاکستان کے اندر ایسے علاقوں پر مشتمل صوبے ‘ جہاں جاگیرداری اپنے روایتی انداز میں موجود ہے‘ اسی قسم کے حالات سے دوچار ہوں گے جن سے پاکستان گزرا ہے۔ مگر تاریخ کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ جاگیردار دوسری سماجی طاقتوں کو غلبہ پاتے دیکھ کراپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نئی حکمران طاقتوں سے علیحدہ ہونے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہی جاگیردار ووٹنگ میں اکثریت کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ علیحدہ صوبوں کا مطالبہ منوانے کے لئے بھی اکثریت کی حمایت حاصل کر کے دکھا سکتے ہیں۔جمہوریت میں اکثریت کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=426167

Categories: Saraiki Sooba Tags:
  1. May 3, 2010 at 4:09 am

    صوبہ بہاولپور کا معاملہ …سویرے سویرے…نذیرناجی

    لاہور سے جمیل احمد پال صاحب نے بہاولپور صوبے کے حوالے سے ایک مکتوب تحریر فرمایاہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

    جناب نذیر ناجی صاحب

    السلام علیکم

    پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے آپ کا کالم پڑھا‘ آپ نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ بنیاد یہ کہ چونکہ ون یونٹ کے قیام سے پہلے یہ ایک آزاد ریاست تھی‘ چنانچہ اسے اسی صورت میں بحال کرنا ایک مناسب بات ہے۔

    آج کل پنجاب کی تقسیم یا نئے صوبوں کی تشکیل کی پرزو روکالت کرنا فیشن میں داخل ہے چنانچہ لگتا ہے کہ آپ بھی اسی رو میں بہہ گئے ہیں اور ایسی تقسیم کے عواقب و نتائج پر غور نہیں فرمایا۔ کچھ معروضات پیش ہیں‘ ذرا دیکھ لیجئے۔

    بہاولپور کی بحالی کی بات بظاہر قرین انصاف لگتی ہے لیکن ذرا غور فرمایئے کہ کیا صرف ریاست بہاولپور ہی ون یونٹ سے پہلے آزاد علاقہ تھا‘ کیا خیرپور‘ سوات‘ چترال‘ دیر اور قلات کی ریاستیں صوبوں میں ضم تھیں؟ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے‘ بہاولپور ہی نہیں‘ دیگر بہت سی ریاستیں بھی ون یونٹ سے پہلے بہاولپور والے سٹیٹس کی مالک تھیں۔ ان ریاستوں کا اب کیا قصور ہے کہ انہیں تو صوبوں ہی میں ضم رکھا جائے اور بہاولپور کو سابقہ صورت میں بحال کر دیا جائے؟ کیا یہ ان ریاستوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟ بہتر ہو گا کہ آپ بہاولپور کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ریاستوں کی بحالی یا صوبہ کا درجہ دیئے جانے کی وکالت بھی کریں تاکہ بہاولپور کی بحالی سے جو دودھ کی نہریں وہاں بہنے والی ہیں‘ وہ نہریں باقی ریاستوں میں بھی جاری ہو سکیں۔

    عام طور پر صوبوں کی تعداد بڑھانے کے لئے افغانستان اور سری لنکا کی مثال دی جا رہی ہے۔ جناب! افغانستان اور سری لنکا میں ”صوبے“ سے مراد ضلع ہوتی ہے اور ہمارے ہاں پہلے ہی ضلعے مناسب تعداد میں موجود ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر بڑھائے بھی جاتے ہیں۔ نیز صوبوں کی تعداد زیادہ ہونا کس لحاظ سے کوئی خوبی کی بات ہے؟ کیا افغانستان کی مثال دینے والے صاحبان پاکسان کو بھی ”افغانستان“ بنا دینا چاہتے ہیں جہاں کی آدھی آبادی پاکستان اور ایران میں دھکے کھا رہی ہے اور باقی ہیروئن‘ کلاشنکوف‘ سمگلنگ اور دہشت گردی کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہی ہے۔ اگر پچاس صوبے بنا کر بھی اقتدار اسلام آباد کے پاس ہی رہنا ہے (جیسا کہ ہمارے ملک کا رواج ہے) تو پھر صوبے بنانے سے کیا حاصل؟

    اس وقت سندھ اور پنجاب میں خاص طور پر پانی کی تقسیم کا مسئلہ الجھا ہوا ہے۔ دونوں صوبے اس سلسلے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ پنجاب کی تقسیم سے کیا پانی کا مسئلہ مزید نہ الجھ جائے گا اور پنجاب ہی کے دونوں حصے پانی کے معاملے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جائیں گے۔ کیا اس سے ملک کمزور نہ ہو گا؟
    صوبوں کی تشکیل کا نزلہ دراصل صرف پنجاب ہی کی تقسیم کیلئے ہے لیکن کیااس کے بعد سندھ میں اردو صوبے کے قیام کی جو تحریک چلے گی‘ اس پر قابو پانا ممکن ہو گا؟ کیا سندھی یہ عمل ہونے دیں گے؟ نفرتوں کی آگ میں کیا کیا بھسم ہو گا؟ کیا آپ نے اس پر غور فرما لیا ہے؟
    امید ہے آپ ان چند معروضات پر غور فرمائیں گے۔ صوبوں کی تشکیل کوئی فیشن کی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ جذبات میں کرنے والا فیصلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے‘ ضلعے اور تحصیل کے کام وہیں سرانجام دیئے جائیں اور لوگوں کو اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ کے چکر نہ لگوائے جائیں۔

    آپ کا مخلص
    جمیل احمد پال

    میں نے یہ خط من و عن شائع کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض علمی مغالطے کیسے کیسے دلائل کی وجہ بنتے ہیں۔ میں نے بہاولپور صوبے کا مطالبہ کرنے والوں میں سے کسی کو افعانستان اور سری لنکا کی مثال دیتے نہیں دیکھا۔ سب جانتے ہیں کہ ان دونوں ملکوں کے علاوہ ایران میں بھی چھوٹے انتظامی یونٹ ہوتے ہیں۔ بہاولپور کا مسئلہ برصغیر کے خصوصی حالات میں تقسیم کے فارمولے کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ یہ بات درست نہیں کہ بہاولپور کا معاملہ دیگر ریاستوں کی طرح ہے۔ خیرپور‘ سوات‘ چترال‘ دیر اور قلات کا معاملہ مختلف تھا۔ یہ تمام ریاستیں پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر تھیں۔ کسی کی سرحد بھارت کے ساتھ نہیں ملتی تھی۔ ایسی تمام ریاستوں کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ بھارت نے بھی یہی کیا۔ کشمیر اور بہاولپور ‘ دو ایسی ریاستیں تھیں‘ جن کے حکمرانوں کو جونا گڑھ اور ماناودر کی طرح یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ جس ملک میں چاہیں شامل ہو جائیں۔ حکمرانوں کو یہ اختیار مسلم لیگ کے مطالبے پر دیا گیا تھا۔ کانگریس کا مطالبہ یہ تھا کہ ایسی ریاستوں کے عوام کویہ حق دیا جائے اور اکثریت کا فیصلہ نافذالعمل ہو۔ مسلم لیگ نے اسے رد کر کے حکمرانوں کو اختیار دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ منظور ہو گیا۔ نتیجے میں کشمیر کا تنازعہ ہمارے گلے پڑا۔

    نواب آف بہاولپور نے تمام مسلمانوں کی توقع کے مطابق پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ بہاولپور کی دوسری امتیازی حیثیت یہ ہے کہ جب ون یونٹ بنایا گیا‘ اس وقت بہاولپور کو صوبے کا درجہ دیا جا چکا تھا۔ اس کے پہلے وزیراعلیٰ صاحبزادہ حسن محمود تھے۔ باقی ریاستوں کو ختم کر کے انہیں ون یونٹ میں ضم کیا گیا۔ بہاولپور کو ون یونٹ میں شامل کرتے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اگر صوبے بحال کئے گئے‘ تو بہاولپور بھی اسی حیثیت میں بحال ہو گا‘ جس حیثیت میں اسے ون یونٹ میں شامل کیا جا رہا تھا۔ جب یحییٰ خان نے صوبوں کو سابقہ حیثیت میں بحال کیا‘ تو بہاولپور کو پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی کا مطالبہ کرنے والے‘ اپنا وہی حق مانگ رہے ہیں‘ جو انہیں پہلے سے حاصل تھا اور نواب آف بہاولپور نے اپنے اختیار اور رضامندی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ دیگر ریاستوں کی طرح مجبور ہرگز نہیں تھے۔ بہاولپور کو صوبہ بنانے کا فیصلہ حکومت پاکستان اور ریاست بہاولپور کی حکومت کے درمیان ہوا تھا۔ اس کی حیثیت دیگر صوبوں جیسی تھی۔ ون یونٹ توڑتے ہوئے دیگر صوبے بحال کر دیئے گئے اور بہاولپور کو اس کا حق دینے سے انکار کیا گیا۔یاد رکھنا چاہیے کہ بہاولپور کے عوام اپنی آزادی و خودمختاری سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے۔ پنجاب کا حصہ بنا کر انہیں اقتدار کے کھیل سے باہر کر دیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں نے بہاولپور کی نمائندگی سیاسی اعتبار سے اپنے کنٹرول میں کر لی اور بہاولپور سمیت سارے جنوبی پنجاب کی طرف سے اقتدار میں حصہ لینے لگے۔ بہاولپور کا کوئی سیاستدان وفاقی یا صوبائی حکومت میں قابل ذکر حیثیت سے شامل نہیں ہو سکا۔

    جنوبی پنجاب اور بہاولپور میں انتہائی اہم فرق یہ بھی ہے کہ بڑے جاگیردار ملتان‘ راجن پور‘ مظفر گڑھ‘ ڈیرہ غازی خان‘ خانیوال اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہاولپور میں رحیم یار خان سے لے کر بہاولنگر تک دو تین سے زیادہ بڑے جاگیردار نہیں ہیں۔ یہاں آبادی کی اکثریت غریب‘ نچلے متوسط طبقے اور بالائی متوسط طبقے پر مشتمل ہے۔اسے جاگیرداروں کے زیراثر رہنے کی عادت نہیں۔ صوبہ بہاولپور کے مطالبے کو دیگر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حوالے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

    Jang 2 May 2010

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=429639

  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: